سائنس اور ٹیکنالوجی
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
مزید خبریں

پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025: معاشی و تکنیکی انقلاب کا خاکہ یا صرف کاغذی منصوبہ؟
پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025 ملک کی معاشی اور تکنیکی سمت کا تعین کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جسے حکومت، جامعات اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ چھ بنیادی ستونوں پر مبنی یہ پالیسی بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مقامی اے آئی ماڈلز کی تیاری، انسانی وسائل کی تربیت، محفوظ استعمال اور عالمی شراکت داری پر زور دیتی ہے۔ پالیسی کا ہدف 2030 تک جی ڈی پی میں 12 فیصد اضافہ اور 35 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے باوجود، شہری و دیہی ڈیجیٹل تفاوت کو ختم کرنا، خواتین اور معذور افراد کو یکساں مواقع فراہم کرنا، اور اخلاقی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا اس منصوبے کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔

مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا مستقبل: معاشی چیلنجز کا جدید حل یا محض نیا عالمی رجحان؟
مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کی معاشی اور انتظامی اصلاحات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک کی 22 سالہ اوسط عمر پر مشتمل نوجوان آبادی نہ صرف مقامی سطح پر اے آئی کے نئے حل فراہم کر سکتی ہے بلکہ عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ اور بالخصوص جرمنی کی درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے تحقیق و ترقی کا مرکز بن سکتی ہے۔ زراعت، صحت، تعلیم اور حکمرانی جیسے شعبوں میں اے آئی کا استعمال سروسز کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری لا سکتا ہے۔ اس کے باوجود، شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل ڈیوائیڈ، غیر مساوی تعلیمی سہولیات اور جامع اخلاقی ضوابط کی غیر موجودگی وہ رکاوٹیں ہیں جن کا تدارک قومی ترجیحات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پشاور میں نوجوانوں کے لیے نئے آئی ٹی تربیتی مرکز کا افتتاح: 'بنو قابل' پروگرام کے تحت 10 ہزار سے زائد طلبہ پہلے ہی مستفید
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مرکز اسلامی سردار گڑھی کے مقام پر الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے تعاون سے 'بنو قابل' آئی ٹی ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر حافظ الرحمان اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسی نے کیا۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ الخدمت صوبے بھر میں 85 کیمپسز کے ذریعے اب تک 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مفت تربیت فراہم کر چکی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود انحصار بنانا اور ملکی معیشت میں ان کا حصہ بڑھانا ہے۔

10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر: کیا فری لانسنگ پاکستانی معیشت کی نئی شاہراہ بن رہی ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں ملکی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 950 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں جو Upwork اور Fiverr جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باوجود بینکاری سہولیات، پے منٹ گیٹ ویز اور اے آئی (AI) مہارتوں کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو تربیت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی نئی سرد جنگ: کیا امریکا اور چین کی اے آئی مسابقت دنیا کو بلاک بندی پر مجبور کر رہی ہے؟
امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی مسابقت اب عالمی سپلائی چین اور تزویراتی اتحادوں پر قبضے کی جنگ بن چکی ہے۔ واشنگٹن کا نیا فریم ورک 'پاکس سلیکا' (Pax Silica) اور چین کا 'ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن' دنیا کو دو الگ الگ ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظاموں میں تقسیم کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قازقستان جیسے ممالک، جو دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن روابط قائم رکھنا چاہتے ہیں، اب امریکی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اس عالمی کشمکش میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ریاستوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بیرونی انحصار ختم کیے بغیر توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

موسمیاتی جھٹکوں کا نیا دور: دنیا کے بڑے شہر کبھی سیلاب، کبھی خشک سالی کی زد میں
دنیا کے بڑے شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں خشک سالی اور شدید بارش کے درمیان تیزی سے بدلتے حالات ایک نئے خطرے کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ 112 شہروں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق بیشتر شہروں کے موسمی رجحانات تبدیل ہوچکے ہیں، جبکہ کراچی اور فیصل آباد جیسے پاکستانی شہر موسمی خطرات اور سماجی کمزوری کے امتزاج کی وجہ سے خاص توجہ چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کو صرف سیلاب یا خشک سالی نہیں بلکہ دونوں انتہاؤں سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
مزید تازہ خبریں
پاکستان کا آبی بحران صرف قلت نہیں، آلودگی بھی ایک سنگین قومی چیلنجپاکستان میں پانی کا بحران صرف کمی اور ذخائر کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ آلودگی بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔ زرعی کھادوں، کیڑے مار ادویات، صنعتی فضلے اور غیر صاف شدہ سیوریج کے باعث زیرِ زمین پانی اور آبی ذخائر متاثر ہورہے ہیں، جس کے اثرات انسانی صحت، خوراک اور ماحول تک پہنچ رہے ہیں۔
صاف توانائی کا نیا مسئلہ: بجلی پیدا ہورہی ہے، مگر گرڈ اسے سنبھال کیوں نہیں پا رہے؟دنیا میں شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر کئی ممالک کے موجودہ گرڈ اس اضافی بجلی کو سنبھالنے اور صارفین تک پہنچانے کے لیے تیار نہیں۔ چین، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان میں قابلِ تجدید توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی وجہ سے ضائع ہورہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صاف توانائی کے ساتھ ٹرانسمیشن لائنوں، بیٹری اسٹوریج اور جدید گرڈ میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

