علاقائی
[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary Pakistan subcategory for local frontend design testing.
مزید خبریں

تنگ نظر روایات، شدت پسندی اور ریاستی بے حسی: قبائلی اضلاع کی بیٹیوں کا کھیل کے میدان تک پہنچنے کا دشوار سفر
شمالی وزیرستان کی سات سالہ آئنہ وزیر کی کرکٹ کھیلتی ویڈیو کے بعد جہاں ایک طرف مواقع کے دروازے کھلے، وہیں شدت پسندوں کے خوف اور سخت قبائلی روایات نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا کہ قبائلی اضلاع میں لڑکیوں کے لیے کھیل کے میدان تک پہنچنا کتنا کٹھن ہے۔ ماریہ طورپیکئی اور نورینہ شمس سے لے کر سلمیٰ فیض تک، قبائلی خطے سے تعلق رکھنے والی درجنوں خواتین کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے لڑکوں کے روپ دھارنے، دھمکیاں سہنے اور اپنے گھر بار چھوڑ کر پشاور جیسے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ فیچر ان کھلاڑیوں کی جدوجہد، سماجی رکاوٹوں اور ریاستی سرپرستی کی عدم موجودگی کا احاطہ کرتا ہے۔

کراچی سے گوادر: مکران کوسٹل ہائی وے اور بلوچستان کی سحر انگیز ساحلی پٹی کا سفر
پاکستان کی جنوبی ساحلی پٹی قدرتی مناظر، نایاب جغرافیائی تنوع اور معاشی امکانات کا ایک انوکھا مرکب ہے۔ کراچی کے تاریخی ساحلوں سے شروع ہو کر بلوچستان کے شہر گوادر تک پھیلا یہ ساحلی راستہ مکران کوسٹل ہائی وے (این-10) کے ذریعے مختلف جغرافیائی شاہکاروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ گدانی میں ناکارہ بحری جہازوں کے قبرستان سے لے کر 300 فٹ بلند چندر گپ کے مٹی کے آتش فشاں، 1,650 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہنگول نیشنل پارک، اور سُپٹ بندر کا نایاب ساحل جہاں رات کو نیلی روشنائیاں (بائیو لیومینسینس) چمکتی ہیں، اس سفر کا اہم حصہ ہیں۔ یہ تحریر پاکستان کے اس حسین مگر کم معروف ساحلی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے۔

بریانی اور نہاری سے آگے: وادیِ سوات میں گندھارا تہذیب اور قدیم ذائقوں کی تلاش
پاکستان کا غذائی منظرنامہ اکثر بریانی، کڑاہی اور نہاری جیسے چند معروف پکوانوں تک محدود دکھائی دیتا ہے، لیکن ملک کے مختلف خطوں کی مقامی خوراک کے پیچھے تاریخ، زراعت اور ثقافت کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ حال ہی میں شیف اسد مونگا، اینتھروپولوجسٹ ایمان حبیب، آرٹسٹ اریشہ خواجہ اور فوٹوگرافر نور العین علی نے وادیِ سوات کا دورہ کر کے 'وائلڈ گرینز اینڈ سیکرڈ ہرڈز' نامی جریدہ تیار کیا ہے۔ اس تحقیقی سفر کے دوران گندھارا تہذیب کے بدھ راہبوں کے ذریعے تبت سے آنے والے 'دمبرا' مصالحے سے لے کر انگوروں کی کاشت اور پختونوں کی روایتی مہمان نوازی 'میلمستیا' کے ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ سوات کا ثقافتی ورثہ صرف آثارِ قدیمہ میں نہیں بلکہ وہاں کے کچن اور فصلوں میں بھی سانس لے رہا ہے۔

شاہی مطبخ سے پشاور کی گلیوں تک: اصلی کابلی پلاؤ کا تاریخی سفر اور 12 مصالحوں سے جڑا ذائقہ
خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور اپنی مخصوص ثقافت اور کھانوں کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے، جہاں کارخانو مارکیٹ میں الیکٹرانکس اور برتنوں کے ساتھ ساتھ کابلی پلاؤ کی طعام گاہیں بھی مرکزِ نگاہ ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے بعد اگرچہ پشاور میں 'اصلی بابا ولی کابلی پلاؤ' کے نام سے کئی ریستوران قائم ہو چکے ہیں، لیکن اصل اور روایتی ذائقہ چند ہی جگہوں پر میسر ہے۔ ایرانی شاہی باورچی خانوں سے کابل اور پھر مغل دور میں برصغیر پہنچنے والے اس پلاؤ کی تیاری میں رات دو بجے سے شروع ہونے والی چھ گھنٹے کی ہلکی آنچ، ہشت نگری کے بچھڑے کا گوشت، اور افغانستان سے منگوایا گیا 12 قدرتی اجزا پر مشتمل مخصوص مصالحہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
کرک مندر پر حملے سے تاریخی واقعات تک: ذاتی تنازعات کو مذہبی رنگ دینے کا رجحان اور اقلیتوں کی بے بسی
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں واقع شری پرمہنس جی مہاراج کے آستانے پر ہجوم کا حملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ایک بڑی وجہ نجی تنازعات ہیں۔ دہائیوں کی قانونی جدوجہد اور 2015 میں سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد بحال ہونے والے اس مندر کو ایک توسیع پسندانہ ٹھیکے کے جھگڑے پر اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے نذرِ آتش کر دیا گیا۔ آسیہ بی بی کیس، بادامی باغ لاہور اور جھنگ میں پولیس اور وکلاء کے تصادم جیسے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ نجی مخاصمتوں کا حساب برابر کرنے کے لیے مذہب کو اکثر ایک آسان اور مہلک ہتھیار کے طور پر برتا جاتا ہے۔

زہریلی ہوا اور پھیلتی بیماریاں: پاکستان میں صاف ستھری فضا کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیوں ضروری ہیں؟
پاکستان میں ایک عام شخص روزانہ 20 ہزار سے زائد بار سانس لیتا ہے، لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور پشاور جیسے شہروں میں فضا میں موجود نظر نہ آنے والے زہریلے ذرات شہریوں کی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی اور سردیوں کی سموگ اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین قومی صحت اور معاشی بحران بن چکی ہے۔ گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں اور کچرا جلانے کی وجہ سے ہوا میں خطرناک ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت اور قومی معیارات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ، ٹرانسپورٹ میں اصلاحات اور کچرے کی تدفین کے جدید نظام کا ہنگامی قیام ناگزیر ہے۔
مزید تازہ خبریں
لاہور میں 'ہنی ٹریپ' گینگ بے نقاب: پولیس اہلکار ہی ماسٹر مائنڈ نکلا، دودھ فروش سے بھتہ وصولی پر مقدمہ درجلاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں پولیس نے 'ہنی ٹریپ' کے ذریعے شہریوں کو اغوا، بلیک میل اور بھتہ خوری میں ملوث ایک منظم گینگ کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس کا سرغنہ خود ایک پولیس اہلکار منظر نکلے۔ اس گروہ نے شیخوپورہ کے ایک محنت کش دودھ فروش منظور احمد کو لڑکی کے ذریعے جھانسہ دے کر بلایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اس سے گاہکوں سے اکٹھی کی گئی 1 لاکھ 8 ہزار روپے کی رقم چھین لی۔ ایس پی سٹی ڈویژن بلال احمد کی ہدایت پر انکوائری کے بعد ملزم نائیک محرر کو گرفتار کر کے مقدمہ انویسٹی گیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی ضمانت ہو چکی ہے۔
کچے کے ڈاکوؤں کا 'ڈیجیٹل راج': ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ہیرو کا روپ، زمین پر خوف اور اغوا کا سلسلہپنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں نے اب اپنے روایتی طریقہ واردات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ 10 ملین روپے کے انعام اور 28 مقدمات میں مطلوب شاہد لنڈ بلوچ جیسے مجرمان ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب پر خود کو مظلوم اور ہیرو کے طور پر پیش کر کے ہزاروں فالوورز سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنی ٹریپ، ڈکیتی اور تاوان کے لیے اغوا جیسے جرائم نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے دشوار گزار جغرافیہ کے ساتھ ساتھ ان ڈاکوؤں کا ڈیجیٹل وجود ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
بلوچستان کا درینہ مسئلہ: فوجی طاقت، معاشی محرومیاں اور ریاستی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہموسیٰ خیل میں شہریوں کے المناک قتل عام کے بعد بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی بحران پر ایک بار پھر بحث چھڑ چکی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے جاری اس شورش کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں فوجی طاقت کے استعمال سے ہوا تھا، جس کے اثرات آج بھی پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ پختون، ہزارہ، پنجابی اور سرائیکی بھی آباد ہیں، جبکہ خود بلوچ معاشرہ مکران سے لے کر بگٹی اور مری علاقوں تک متنوع سیاسی و سماجی شناخت رکھتا ہے۔ گوادر میں ماہی گیروں کی معاشی بے دخلی، سی پیک پر تحفظات، لاپتا افراد اور پرامن بلوچ نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے اقدامات نے اس قضیے کو مزید الجھا دیا ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاست اور آئینی ابہام: وفاقی احکامات کے درمیان حقوق کی تلاطم خیز تلاشگلگت بلتستان کے عوام نے آزادی کے بعد پاکستان سے الحاق کا راستہ اس امید کے ساتھ چنا تھا کہ انہیں ملک کے آئینی اور سیاسی دھارے میں مکمل نمائندگی مل سکے گی۔ تاہم پاکستان کی تین بڑی وفاقی جماعتوں — پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف — نے اس خطے کو ہمیشہ اسلام آباد کی سیاسی ضرورت، گرانٹس اور وفاقی اثر و رسوخ کے زاویے سے دیکھا۔ الیکشن کے دنوں میں عبوری صوبے اور آئینی اصلاحات کے وعدے تو کیے جاتے ہیں، لیکن اقتدار ملتے ہی حقیقی اختیارات مقامی اسمبلی کے بجائے بیوروکریسی اور وفاقی انتظامیہ کے پاس ہی رہتے ہیں۔ تاہم خطے کی تعلیم یافتہ اور باخبر نئی نسل اب اس غیر یقینی صورتِ حال کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحراناسلام آباد میں بیٹھ کر جب پاک افغان تجارت کی اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ محض چند ارب ڈالر کا اتار چڑھاؤ دکھائی دیتا ہے، لیکن طورخم، چمن اور لنڈی کوتل کے شہریوں کے لیے یہ نفع نقصان نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں دوطرفہ تجارت 53 فیصد کم ہو کر 594 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم تاریخی سطح تک گر چکا ہے۔ اس تالہ بندی کے اثرات صرف سرحد تک محدود نہیں رہے بلکہ پنجاب کے کاشتکاروں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر چکے ہیں۔
بلوچستان میں منفی درجہ حرارت اور 'لاندھی' کا سحر: شدید سردی میں روایتی خشک گوشت کی طلب میں ریکارڈ اضافہبلوچستان میں رواں موسمِ سرما کے دوران پڑنے والی غیر معمولی اور شدید سردی نے جہاں عام زندگی کو مفلوج کیا، وہیں پشتون ثقافت کی سوغات ’لاندھی‘ کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ضلع پشین کے یارو بازار میں ان دنوں خشک گوشت کے خریداروں کا تانتھا بندھا ہے، جہاں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب سے آئے لوگ بھی اس روایتی اور مقوی غذا کو حاصل کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں میں پارہ مائنس 7.5 ڈگری تک گرنے سے لاندھی کی طلب میں دس گنا اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کی بدولت اب لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی اس کا کاروبار چمک اٹھا ہے۔
پاکستان افغان سرحد پر لگی باڑ: کٹھن راستوں اور بندشوں میں پسے کوچی خانہ بدوشوں کی داستانپاکستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں سے موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ہجرت کرنے والے لاکھوں کوچی خانہ بدوش سرحدی باڑ اور انتظامی سخت یوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سرحد پار کرنے کی قانونی اجازت نہ ملنے کے باعث انہیں انجان اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں اور سفر کی تکالیف میں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈز رکھنے کے باوجود اپنے آباؤ اجداد کی چراگاہوں اور سرمائی ٹھکانوں تک پہنچنے میں ناکامی نے اس قدیم قبائلی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کو گہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
بلوچستان کا قدیم کاریز نظام: روایتی آبی حکمت، تباہی کا خدشہ اور بحالی کا امکانبلوچستان میں پانی کا روایتی زیرِ زمین نظام ’کاریز‘ محض آبپاشی کا ذریعہ نہیں بلکہ صحرائی زندگی، مقامی ثقافت اور اجتماعی بھائی چارے کی بنیاد رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بے دریغ ٹیوب ویلوں کے استعمال نے اس تاریخی نظام کو خشک کر کے دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، آذربائیجان کے علاقے نخچیوان میں کیمونسٹ دور کے بند کاریزوں کی کامياب بحالی نے ثابت کیا ہے کہ اگر درست حکمتِ عملی اور مقامی آبادی کو شامل کیا جائے تو یہ قدیم نظام دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور افغانستان کے جغرافیائی و معاشی پس منظر میں کاریز کی تحفظ کی جدوجہد پر ایک تحقیقی نظر۔
جنوبی وزیرستان میں ترقی اور سیکیورٹی کے دو رخ: نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ہنر اور خواتین کے لیے روزگار کا نیا راستہقبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے جائیکا اور خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر نیا تکنیکی پروگرام فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو ای کامرس، فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کی تربیت دے کر بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔ تربیت مکمل کرنے پر مردوں کو لیپ ٹاپس اور خواتین کو گھریلو صنعت قائم کرنے کے لیے سلائی مشینیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ باوقار روزگار حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب، خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بھی برقرار ہیں، جہاں پولیس اہلکار زاہد اللہ کی شہادت ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن و امان کی صورتحال کا استحکام کتنا ضروری ہے۔

