پاکستان
this is test category for pakistan
مزید خبریں

بلوچستان میں لیتھیم کی دریافت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عسکریت پسندوں کے حملے: اصل تنازع کیا ہے؟
دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے بعد بلوچستان کے قدرتی وسائل میں 'لیتھیم' کی دریافت کا موضوع زیرِ بحث ہے۔ صوبے کے ضلع چاغی، واشک اور خاص طور پر نمکیاتی میدان 'ہامونِ ماشکیل' میں لیتھیم کے ممکنہ ذخائر کی نشاندہی کے بعد پاکستانی اور چینی کمپنیوں کو ایکسپلوریشن لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اس نایاب اور سٹریٹیجک معدن کی تلاش کے ساتھ ہی سیکورٹی خدشات اور سیاسی تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے ایک ڈرلنگ سائٹ پر حملے اور سرمایہ کاروں کو دھمکیوں کے بعد، صوبائی حکومت اور سیکیورٹی حکام نے ان دعووں کو بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوئے قدرتی وسائل کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سڑکوں پر بدلتا منظرنامہ: الیکٹرک سکوٹی نے پاکستانی خواتین کو سفری اور معاشی آزادی کیسے دی؟
پاکستان میں مہنگے پیٹرول اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے درمیان الیکٹرک سکوٹی خواتین کے لیے صرف ایک سواری نہیں بلکہ خودمختاری کا نیا ذریعہ بن چکی ہے۔ فیصل آباد، لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں طالبات، ملازمت پیشہ خواتین اور گھریلو خواتین روزمرہ کے کاموں، کالج اور اپنے کاروبار کے لیے سکوٹی کا استعمال کر رہی ہیں۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں الیکٹرک سکوٹیز کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس میں قومی ای وی پالیسی (PAVE)، 20 فیصد سبسڈیز اور بلا سود فنانسنگ کا بڑا ہاتھ ہے۔ سڑکوں پر پائے جانے والے منفی رویوں اور سوشل میڈیا ٹرولنگ کے باوجود خواتین منظم ریلیوں اور گروپوں کے ذریعے ایک دوسرے کو حوصلہ فراہم کر رہی ہیں۔

9/11 کا مرکزی ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد: راولپنڈی سے گرفتاری، اسامہ تک رسائی اور 25 سال بعد بھی التوا کا شکار ٹرائل
امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے ہولناک حملوں کو ربع صدی بیت چکی ہے، مگر ان حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد آج بھی گوانتانامو بے کی فوجی عدالت میں بغیر کسی حتمی سزا کے قید ہے۔ پاکستان سے گہرا تعلق رکھنے والے اس کردار کو مارچ 2003 میں راولپنڈی سے ایک خفیہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ بگرام اور پولینڈ کے خفیہ حراستی مراکز میں سی آئی اے کی جانب سے واٹر بورڈنگ اور شدید جسمانی تشدد کے بعد حاصل کیے گئے اعترافات امریکی نظامِ انصاف کے لیے سب سے بڑی قانونی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ یہ تحریر خالد شیخ محمد کی خونی تاریخ، اس کی گرفتاری کے پسِ پردہ حقائق اور سزائے موت کے طویل قانونی التوا کا مفصل جائزہ پیش کرتی ہے۔

کینسر کا علاج اور جسمانی آزمائش: کیموتھراپی کے اثرات سے معاشی دباؤ تک مریض کن مراحل سے گزرتے ہیں؟
کینسر کی تشخیص کسی بھی خاندان کے لیے ایک غیر متوقع صدمے سے کم نہیں ہوتی، لیکن اس کے بعد شروع ہونے والا علاج کا مرحلہ مریض کو جسمانی، اعصابی اور مالی طور پر کڑی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور ہارمون تھیراپی جیسے علاج کے دوران اکثر مریض شدید تھکاوٹ، بے خوابی، بالوں کے گرنے اور ہاضمے کی تکالیف کا شکار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کے معالجین اور غذائی ماہرین کے مطابق ان دواؤں کے جہاں اپنے مضمر اثرات ہوتے ہیں، وہیں بروقت کونسلنگ، مخصوص غذائی دیکھ بھال اور خاندانی سہارے سے اس کٹھن سفر کو قابلِ برداشت بنایا جا سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی: ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی ہم منصب سے رابطہ
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم اور خطے میں سیکورٹی کی بگڑتی صورتحال کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر اہم رابطہ کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان رابطوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان تنازع میں کمی، سفارتی مذاکرات کی بحالی اور سعودی عرب پر حوثی ڈرون و بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے باعث خطے کی یہ تزویراتی تبدیلیاں اسلام آباد کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

تنگ نظر روایات، شدت پسندی اور ریاستی بے حسی: قبائلی اضلاع کی بیٹیوں کا کھیل کے میدان تک پہنچنے کا دشوار سفر
شمالی وزیرستان کی سات سالہ آئنہ وزیر کی کرکٹ کھیلتی ویڈیو کے بعد جہاں ایک طرف مواقع کے دروازے کھلے، وہیں شدت پسندوں کے خوف اور سخت قبائلی روایات نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا کہ قبائلی اضلاع میں لڑکیوں کے لیے کھیل کے میدان تک پہنچنا کتنا کٹھن ہے۔ ماریہ طورپیکئی اور نورینہ شمس سے لے کر سلمیٰ فیض تک، قبائلی خطے سے تعلق رکھنے والی درجنوں خواتین کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے لڑکوں کے روپ دھارنے، دھمکیاں سہنے اور اپنے گھر بار چھوڑ کر پشاور جیسے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ فیچر ان کھلاڑیوں کی جدوجہد، سماجی رکاوٹوں اور ریاستی سرپرستی کی عدم موجودگی کا احاطہ کرتا ہے۔
مزید تازہ خبریں
میاں چنوں سے برمنگھم تک: کٹھن راستوں اور کہنی کی چوٹ کو شکست دے کر 90 میٹر کا سنگِ میل عبور کرنے والے ارشد ندیم کی کہانیٹوکیو اولمپکس میں میڈل کی دوڑ سے محروم رہنے کے بعد برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 56 سالہ قحط کو ختم کرتے ہوئے ارشد ندیم نے پاکستان کے لیے سونا جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ میاں چنوں کی تنگ گلیوں، وسائل کی کمی اور کہنی کی شدید تکلیف کے باوجود 90.18 میٹر کی تاریخی تھرو پھینکنے والے اس جیولن تھروور کا سفر آسان نہیں تھا۔ کرکٹ کے جنون سے اتھلیٹکس کے میدان تک، کوچ رشید ثاقی اور فیض البخاری کی رہنمائی میں تراشے گئے اس ہیرے کی کامیابی صرف ایک تمغے کی نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم اور محنت کی جیتی جاگتی داستان ہے۔
ہمالیہ کے سبزہ زاروں سے رتی گلی تک: گرمی کی حبس سے نانگا پربت، دیوسائی اور وادیِ نیلم کا سحر انگیز سفرلاہور کی تپتی گرمی اور حبس زدہ دوپہر سے فرار اختیار کر کے سلسلےِ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں اور قدرتی جھیلوں کی طرف نکلنا کسی خواب سے کم نہیں۔ یہ سفرنامہ بالاکوٹ، بابوسر پاس اور رائے کوٹ برج سے ہوتا ہوا نانگا پربت کے دامن میں واقع فیری میڈوز تک پہنچتا ہے، جہاں قاری رحمت کی آپ بیتی اور جرمن کوہ پیماؤں کی داستانیں بکھری ہیں۔ وہاں سے استور کی تاریخی وادیوں، مینیمرگ اور رینبو لیک سے گزرتے ہوئے، دیوسائی کے پراسرار میدانوں اور بالآخر وادیِ نیلم کی خوبصورت رتی گلی جھیل تک کا سفر قدرتی مناظر، مقامی ثقافت اور سیاحتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔لاہور میں شدید گرمی اور حبس کا زور تھا اور آم کے درخت پر پپیہے کے جوڑے کا گھونسلا بارش کے بعد بکھر رہا تھا، جب ہمالیہ کے سرسبز میدانوں اور قدرتی جھیلوں کی صدا نے سفر پر روانہ ہونے کا اشارہ دیا۔ ہمالیہ کا یہ عظیم الشان پہاڑی سلسلہ مغرب میں افغانستان سے لے کر مشرق میں میانمار تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ماؤنٹ ایورسٹ اور نانگا پربت سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند کئی چوٹیاں شامل ہیں۔ بالاکوٹ پہنچے تو وادیِ کاغان میں دریائے کنہار پر دھند کی چادر تنی تھی اور لولوسر جھیل صبح کے وقت سیاحوں سے خالی ویران نظر آ رہی تھی۔ بابوسر پاس عبور کرتے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، چلاس کی گرمی اور سڑک کی دھول سے گزر کر دوپہر کے وقت رائے کوٹ برج پہنچے جہاں سے جیپ کے ذریعے تتّو گاؤں اور پھر تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد فیری میڈوز کا سبزہ زار سامنے آیا۔ نانگا پربت کا سایہ اور فیری میڈوز کا قاری 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کے سامنے رات کے اندھیرے میں فیری میڈوز کاجل جیسا سیاہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں فیری میڈوز کاٹیجز کے مالک قاری رحمت سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز بیان کیے۔ وہ ماضی میں ایک مدرسے میں 1,200 روپے ماہانہ پر پڑھاتے تھے، مگر مہمان نوازی کے اخراجات کی وجہ سے ان کے پاس کچھ نہ بچتا۔ نوکری چھوڑنے کے بعد ایک سال بے روزگار رہے، پھر 1992ء میں گلگت میں ایک شخص کے مشورے پر 800 روپے کی رقم کے ساتھ فیری میڈوز کی شاملاٹ زمین پر پتھر رکھ کر جگہ کی نشان دہی کی اور جنگل کی لکڑی سے ہوٹل بنایا۔ شروع کے پانچ سال تو کوئی مقامی سیاح نہ آیا لیکن آج ان کا ہوٹل ہر سیزن میں مکمل بک رہتا ہے۔ اسی دامن میں 1953ء میں آسٹریا کے کوہ پیما ہرمن بُہل نے پہلی بار نانگا پربت سر کیا تھا، جبکہ اس سے قبل یہ سرکش پہاڑ 31 کوہ پیماؤں کی جانیں لے چکا تھا۔ بُہل نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ آخری چڑھائی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ کوئی نادیدہ وجود ان کے پیچھے ہے اور رسی اپنے آپ ٹوٹ گئی تھی۔ اس پہاڑ نے جرمن کوہ پیما رائن ہولڈ میسنر کے بھائی سمیت کئی مہم جوؤں کو اپنے آغوش میں سلا رکھا ہے۔ مینیمرگ کے کھلتے پھول اور دیوسائی کی پراسرار خاموشی فیری میڈوز سے رخصت ہو کر شاہراہِ ریشم کے راستے استور کا سفر شروع ہوا۔ 120,000 کی آبادی پر مشتمل ضلع استور چشموں، ندی نالوں اور جھیلوں کی سرزمین ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ فارس سے آنے والے غازی مکپون نے سکردو کے شاہی خاندان میں شادی کی تھی اور ان کی اولاد نے سکردو، استور، روندو اور کھرمُنگ پر طویل عرصے حکومت کی، جس کے بعد یہ علاقہ ڈوگرا راج کے زیرِ نگیں چلا گیا۔ استور کے بازار سے جیپ تبدیل کر کے چلم چوکی میں اندراج کروایا اور مینیمرگ کی طرف بڑھے، جہاں لکڑی کے مکانات، جستی چھتیں اور رنگ برنگے جنگلی پھول سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ یہاں سے ڈومیل کی رینبو لیک پہنچے تو مارموٹ (پہاڑی گلہری) کی سیٹیوں نے فضا میں موسیقی گھول دی۔ اس کے بعد سفر دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں اور شیوسر جھیل کی طرف مڑا۔ دیوسائی کا لفظ ’دیو‘ یعنی دیو قامت اور ’سائی‘ یعنی سائے کا مجموعہ ہے۔ شدید سردی اور منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے یہاں مستقل رہائش ناممکن ہے۔ یہ خاموش میدان بھورے ریچھ، سرخ لومڑی اور سنہری عقاب کا مسکن ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں سے آنے والے چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ انہی میدانوں سے گزر کر سکردو اور استور جاتے ہیں اور سفر کے دوران فوت ہو جانے والے چرواہوں کی قبریں انہی ویرانوں میں بکھری پڑی ہیں۔ کرن سیکٹر کی للکار اور رتی گلی کا نیلا پانی سلسلہِ ہمالیہ کا گلگت بلتستان کا حصہ ختم ہوا تو کشمیر کی سب سے بڑی جھیل 'رتی گلی' کا سفر شروع ہوا۔ مظفرآباد شہر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یومِ سیاہ کی وجہ سے مکمل بند اور ویران تھا۔ وادیِ نیلم کے کرن سیکٹر کی ملٹری چیک پوسٹ پر فوجی اہلکار نے دو دن قبل ہونے والی فائرنگ اور چار شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آگے جانے سے روکا، لیکن جنونِ سفر کے سامنے رکاوٹیں نہ ٹھہر سکیں۔ دوڑیاں سے سنگلاخ راستے پر ڈھائی گھنٹے جیپ کے سفر کے بعد رتی گلی کا بیس کیمپ آیا، جو خیموں کا ایک شہر بن چکا تھا۔ وہاں سے ڈھائی کلومیٹر کی عمودی اور کٹھن چڑھائی کے بعد جب رتی گلی جھیل کا گہرا نیلا پانی اور شام کی سنہری شعاعیں سامنے آئیں تو تمام تھکن کافور ہو گئی۔ اس نیلی جھیل کے کنارے سبز مخملی گھاس پر سجدہ ریز ہو کر خالقِ حقیقی کا شکر ادا کیا۔ لاہور واپسی پر جب کھڑکی کھولی تو آم کا درخت اداس تھا اور پرندوں کا جوڑا جا چکا تھا، مگر ایک سیاح کے لیے سفر کی یادیں اور نئے راستوں کی تلاش ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔
برف میں ڈھکی جھیل سیف الملوک: ناران سے ملکہ پربت کے دامن تک ایک سیاح کا سحر انگیز سفروادیِ کاغان کا شمار پاکستان کے سب سے دلکش قدرتی خطوں میں ہوتا ہے، جہاں دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ پھیلی وادی، شوگران، ناران اور جھیل سیف الملوک سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہیں۔ موسمِ بہار اور سرما کے اختتام پر جب ناران سے جھیل سیف الملوک کا جیپ ٹریک شدید برف باری کے باعث بند ہوتا ہے، تو 4,173 میٹر تک بلند ان پہاڑی سلسلوں کا سفر کٹھن اور دشوار گزار ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر پنجاب کے میدانی علاقوں اور ہزارہ ڈویژن سے ہوتے ہوئے ناران، للوسر، لولا زار اور برف سے ڈھکی سیف الملوک جھیل تک کے ایک منفرد سیاحتی سفر، مقامی ثقافت اور قدرتی تنوع کا احاطہ کرتی ہے۔
دیوسائی کی سحر انگیز وسعتیں: 'دیوؤں کی سرزمین' اور شیووسر جھیل کا جغرافیائی و انسانی منظرنامہسطحِ سمندر سے 4 ہزار میٹر سے زائد بلندی پر واقع دیوسائی کا قومی پارک ہندوکش اور ہمالیہ کے سنگم پر 3 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ایک منفرد خطہ ہے۔ 'دیو' اور 'سائی' یعنی دیوؤں کے سائے سے منسوب یہ سطحِ مرتفع سال کے 8 ماہ برف سے ڈھکی رہتی ہے اور یہاں کوئی درخت موجود نہیں ہے۔ یہ علاقہ ہمالین براؤن بیئر، سرخ لومڑیوں اور نایاب پرندوں کا قدرتی مسکن ہے۔ سکردو سے سدپارہ کے راستے شیووسر جھیل تک پھیلا یہ راستہ جہاں قاتل پہاڑ نانگا پربت کے نظارے پیش کرتا ہے، وہیں چلم اور استور کے راستے میں پہاڑی باشندوں کی زندگی کے تلخ حقائق سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔
کراچی سے گوادر: مکران کوسٹل ہائی وے اور بلوچستان کی سحر انگیز ساحلی پٹی کا سفرپاکستان کی جنوبی ساحلی پٹی قدرتی مناظر، نایاب جغرافیائی تنوع اور معاشی امکانات کا ایک انوکھا مرکب ہے۔ کراچی کے تاریخی ساحلوں سے شروع ہو کر بلوچستان کے شہر گوادر تک پھیلا یہ ساحلی راستہ مکران کوسٹل ہائی وے (این-10) کے ذریعے مختلف جغرافیائی شاہکاروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ گدانی میں ناکارہ بحری جہازوں کے قبرستان سے لے کر 300 فٹ بلند چندر گپ کے مٹی کے آتش فشاں، 1,650 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہنگول نیشنل پارک، اور سُپٹ بندر کا نایاب ساحل جہاں رات کو نیلی روشنائیاں (بائیو لیومینسینس) چمکتی ہیں، اس سفر کا اہم حصہ ہیں۔ یہ تحریر پاکستان کے اس حسین مگر کم معروف ساحلی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے۔
وادیِ بروغل کی کرومبر جھیل: ہندوکش کے آغوش میں واقع پاکستان کا نایاب قدرتی شاہکارپاکستان کے دور افتادہ شمالی علاقے چترال کی وادیِ بروغل میں واقع کرومبر جھیل سطحِ سمندر سے 4,300 میٹر کی بلندی پر موجود قدرتی خوبصورتی کا ایک شاہکار ہے۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی سرحد پر واقع یہ جھیل دنیا کی بلند ترین متحرک جھیلوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن یہاں تک پہنچنے کا راستہ لواری ٹنل، ماستوج، اور وادیِ یارخون سے ہوتے ہوئے دشوار گزار پتھریلی سڑکوں اور کلومیٹر طویل پیدل ٹریکنگ پر مشتمل ہے۔ وادیِ بروغل کی مقامی واخی برادری کی ثقافت، یاک کی پرورش اور شدید سردیوں سے قبل کی نقل مکانی اس خطے کو جغرافیائی کے ساتھ ساتھ معاشی اور ثقافتی لحاظ سے بھی منفرد بناتی ہے۔
بریانی اور نہاری سے آگے: وادیِ سوات میں گندھارا تہذیب اور قدیم ذائقوں کی تلاشپاکستان کا غذائی منظرنامہ اکثر بریانی، کڑاہی اور نہاری جیسے چند معروف پکوانوں تک محدود دکھائی دیتا ہے، لیکن ملک کے مختلف خطوں کی مقامی خوراک کے پیچھے تاریخ، زراعت اور ثقافت کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ حال ہی میں شیف اسد مونگا، اینتھروپولوجسٹ ایمان حبیب، آرٹسٹ اریشہ خواجہ اور فوٹوگرافر نور العین علی نے وادیِ سوات کا دورہ کر کے 'وائلڈ گرینز اینڈ سیکرڈ ہرڈز' نامی جریدہ تیار کیا ہے۔ اس تحقیقی سفر کے دوران گندھارا تہذیب کے بدھ راہبوں کے ذریعے تبت سے آنے والے 'دمبرا' مصالحے سے لے کر انگوروں کی کاشت اور پختونوں کی روایتی مہمان نوازی 'میلمستیا' کے ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ سوات کا ثقافتی ورثہ صرف آثارِ قدیمہ میں نہیں بلکہ وہاں کے کچن اور فصلوں میں بھی سانس لے رہا ہے۔
تقسیم کے باوجود زندہ سندھی ذائقے: پلا مچھی، سائی بھاجی اور نایاب پکوانوں کی کہانیسندھی پکوان اپنی منفرد لذت، مقامی سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کے استعمال کے باعث ایک خاص ثقافتی پہچان رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان اور بھارت کے مین اسٹریم فوڈ کلچر میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جو دیگر علاقائی کھانوں کو ملا۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان، بھارت اور دیارِ غیر میں مقیم سندھی برادری نے اپنے گھریلو کچن کے ذریعے ان روایتی ذائقوں کو زندہ رکھا ہے۔ سائی بھاجی اور دال پکوان سے لے کر سکھر کے زندہ پیر سے منسوب 'پلا مچھی' تک، سندھی کھانا اپنے اندر ہجرت، تاریخ اور روحانی روایات کا ایک منفرد باب سمیٹے ہوئے ہے۔
شاہی مطبخ سے پشاور کی گلیوں تک: اصلی کابلی پلاؤ کا تاریخی سفر اور 12 مصالحوں سے جڑا ذائقہخیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور اپنی مخصوص ثقافت اور کھانوں کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے، جہاں کارخانو مارکیٹ میں الیکٹرانکس اور برتنوں کے ساتھ ساتھ کابلی پلاؤ کی طعام گاہیں بھی مرکزِ نگاہ ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے بعد اگرچہ پشاور میں 'اصلی بابا ولی کابلی پلاؤ' کے نام سے کئی ریستوران قائم ہو چکے ہیں، لیکن اصل اور روایتی ذائقہ چند ہی جگہوں پر میسر ہے۔ ایرانی شاہی باورچی خانوں سے کابل اور پھر مغل دور میں برصغیر پہنچنے والے اس پلاؤ کی تیاری میں رات دو بجے سے شروع ہونے والی چھ گھنٹے کی ہلکی آنچ، ہشت نگری کے بچھڑے کا گوشت، اور افغانستان سے منگوایا گیا 12 قدرتی اجزا پر مشتمل مخصوص مصالحہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

