تازہ خبریں
خلا میں امریکی ہتھیاروں کی تنصیب: عالمی سیکیورٹی، 1967 کا معاہدہ اور خطرناک عسکری دوڑ کا آغازڈیجیٹل محاذ پر عسکریت پسندی: پاکستان میں آن لائن شدت پسندی کا پھیلاؤ، جدید ہتھکنڈے اور سدِ بابکوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ: ہلاکتیں، سیکیورٹی صورتحال اور درپیش چیلنجزپاکستان میں 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کی افواہیں: سٹیٹ بینک کی وضاحت اور فیصلے کے پیچھے معاشی وجوہاتبلوچستان میں لیتھیم کی دریافت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عسکریت پسندوں کے حملے: اصل تنازع کیا ہے؟ناسا کو بادلوں کی تصاویر کی ضرورت کیوں؟ خلا سے زمین کے جائزے میں عام شہری کیسے مدد کر سکتے ہیںڈونلڈ ٹرمپ کا اے آئی کمپنیوں کے خلاف 'سازش' کا الزام؛ چین کے جاسوس چیف اور اقوامِ متحدہ کے شدید تحفظاتمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار دوڑ کو روکنا کیوں مشکل ہو گیا؟ امریکی کمپنیاں، سیاسی دباؤ اور چین سے مقابلے کی مکمل کہانیاوپن اے آئی کے ایجنٹ کا ہگنگ فیس پر حملہ: کیا ’کِل سوئچ‘ بے قابو مصنوعی ذہانت کو روکنے کا حل ہے؟سڑکوں پر بدلتا منظرنامہ: الیکٹرک سکوٹی نے پاکستانی خواتین کو سفری اور معاشی آزادی کیسے دی؟پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدلتا روپ: من گھڑت الزامات، قانون کا استعمال اور اکثریت کا بڑھتا خوفتعزیراتِ ہند سے تعزیراتِ پاکستان تک: توہینِ مذہب کے قوانین کا ارتقا اور سیاسی و سماجی اثراتتین دہائیوں میں کیسز کی تسلسل سے آمد اور سیاسی استعمال: توہین کے قوانین کی سختیاں اور بڑھتے سوالاتمقامی حکومتیں: صوبائی دارالحکومتوں میں اٹکی ہوئی جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلیمرکز اور حاشیے کی کشمکش: استعماری طرزِ حکمرانی جو پاکستان کو پیچھے دھکیل رہا ہےہرات کا روایتی شیشہ: مٹی کی بھٹیوں، صحرائی پودے اور پھونک سے ڈھلتے صدیوں پرانے شاہکارپاک ایران راستوں پر رکاوٹیں: کیا 'لاپس لازولی راہداری' افغانستان کو متبادل تجارتی راستہ فراہم کر سکتی ہے؟ہرات کی 1800 سالہ قدیم شیشہ سازی کی صنعت کا آخری چراغ: ایک شیشہ گر اور دم توڑتا ورثہقوش تیپہ کینال پروجیکٹ: آمو دریا کا رخ موڑنے کا افغان منصوبہ وسطی ایشیا کے لیے نیا آبی بحران؟پاک افغان تجارت میں بڑا بریک ڈاون: 53 فیصد کمی اور سرحد پار معیشت کا خاموش بحرانباری اسٹوڈیوز: لاہور کے فلمی عروج کی ایک بکھرتی ہوئی یادکیا پنجابی سنیما پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی کی چابی ہے؟پردے کے پیچھے چھپا لالی وڈ کا معمار: اقبال رضوی کی ساٹھ سالہ فلمی داستانخالی ہال، مہنگے ٹکٹ اور فلموں کا قحط: پاکستانی سنیما کو درپیش بقا کا بحرانخاموش ہوتے پردے اور خالی سینما ہال: کیا پاکستانی فلمی صنعت اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہے؟
LIVE
US Dollar 278.44 PKREuro 317.69 PKRBritish Pound 368.77 PKRUAE Dirham 75.82 PKRSaudi Riyal 74.25 PKRKuwaiti Dinar 903.05 PKRQatari Riyal 76.49 PKRBahraini Dinar 740.53 PKROmani Rial 724.15 PKRChinese Yuan 41.00 PKRJapanese Yen 1.72 PKRIndian Rupee 2.94 PKRAfghan Afghani 4.39 PKRMalaysian Ringgit 68.41 PKRSingapore Dollar 215.27 PKRTurkish Lira 5.99 PKRCanadian Dollar 196.16 PKRAustralian Dollar 191.83 PKRSwiss Franc 344.45 PKRIslamabad 🌧 26°C Smoky hazeRawalpindi 🌧 29°C Smoky hazeLahore 🌧 30°C Smoky hazeKarachi ⛅ 27°C Partly CloudyQuetta ☀ 22°C ClearPeshawar 🌧 34°C Smoky hazeMultan 🌧 35°C Smoky hazeFaisalabad 🌧 32°C Smoky hazeGujranwala 🌧 30°C Smoky hazeSialkot 🌧 29°C Smoky hazeHyderabad ☀ 28°C ClearSukkur ☀ 34°C ClearBannu 🌧 36°C Smoky hazeDera Ismail Khan 🌧 37°C Smoky hazeAbbottabad 🌧 21°C Smoky hazeMansehra 🌧 21°C Smoky hazeChitral ☀ 16°C ClearMingora / Swat 🌧 19°C Smoky hazeKalam ☀ 8°C ClearMalam Jabba 🌧 19°C Smoky hazeNathia Gali 🌧 21°C Smoky hazeMurree 🌧 26°C Smoky hazeGilgit ☀ 19°C ClearSkardu ☀ 15°C ClearHunza ☀ 12°C ClearChilas ☀ 19°C ClearAstore ☀ 12°C ClearDir ☀ 14°C ClearKumrat Valley ☀ 8°C ClearNaran ⛅ 10°C Partly CloudyKaghan ⛅ 14°C Partly CloudyMuzaffarabad ⛅ 14°C Partly CloudyMirpur 🌧 31°C Patchy rain nearbyRawalakot 🌧 22°C Smoky haze

پاکستان

this is test category for pakistan

مزید تازہ خبریں

Pakistani athlete Arshad Nadeem wearing a green Pakistan kit as he prepares to release the javelin during the men's javelin throw final.میاں چنوں سے برمنگھم تک: کٹھن راستوں اور کہنی کی چوٹ کو شکست دے کر 90 میٹر کا سنگِ میل عبور کرنے والے ارشد ندیم کی کہانی

ٹوکیو اولمپکس میں میڈل کی دوڑ سے محروم رہنے کے بعد برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 56 سالہ قحط کو ختم کرتے ہوئے ارشد ندیم نے پاکستان کے لیے سونا جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ میاں چنوں کی تنگ گلیوں، وسائل کی کمی اور کہنی کی شدید تکلیف کے باوجود 90.18 میٹر کی تاریخی تھرو پھینکنے والے اس جیولن تھروور کا سفر آسان نہیں تھا۔ کرکٹ کے جنون سے اتھلیٹکس کے میدان تک، کوچ رشید ثاقی اور فیض البخاری کی رہنمائی میں تراشے گئے اس ہیرے کی کامیابی صرف ایک تمغے کی نہیں بلکہ غیر متزلزل عزم اور محنت کی جیتی جاگتی داستان ہے۔

Wooden log cabins sitting on lush green lawns at Fairy Meadows with the massive snow-covered peak of Nanga Parbat glowing in warm sunset light in Gilgit-Baltistan, Pakistan.ہمالیہ کے سبزہ زاروں سے رتی گلی تک: گرمی کی حبس سے نانگا پربت، دیوسائی اور وادیِ نیلم کا سحر انگیز سفر

لاہور کی تپتی گرمی اور حبس زدہ دوپہر سے فرار اختیار کر کے سلسلےِ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں اور قدرتی جھیلوں کی طرف نکلنا کسی خواب سے کم نہیں۔ یہ سفرنامہ بالاکوٹ، بابوسر پاس اور رائے کوٹ برج سے ہوتا ہوا نانگا پربت کے دامن میں واقع فیری میڈوز تک پہنچتا ہے، جہاں قاری رحمت کی آپ بیتی اور جرمن کوہ پیماؤں کی داستانیں بکھری ہیں۔ وہاں سے استور کی تاریخی وادیوں، مینیمرگ اور رینبو لیک سے گزرتے ہوئے، دیوسائی کے پراسرار میدانوں اور بالآخر وادیِ نیلم کی خوبصورت رتی گلی جھیل تک کا سفر قدرتی مناظر، مقامی ثقافت اور سیاحتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔لاہور میں شدید گرمی اور حبس کا زور تھا اور آم کے درخت پر پپیہے کے جوڑے کا گھونسلا بارش کے بعد بکھر رہا تھا، جب ہمالیہ کے سرسبز میدانوں اور قدرتی جھیلوں کی صدا نے سفر پر روانہ ہونے کا اشارہ دیا۔ ہمالیہ کا یہ عظیم الشان پہاڑی سلسلہ مغرب میں افغانستان سے لے کر مشرق میں میانمار تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ماؤنٹ ایورسٹ اور نانگا پربت سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند کئی چوٹیاں شامل ہیں۔ بالاکوٹ پہنچے تو وادیِ کاغان میں دریائے کنہار پر دھند کی چادر تنی تھی اور لولوسر جھیل صبح کے وقت سیاحوں سے خالی ویران نظر آ رہی تھی۔ بابوسر پاس عبور کرتے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، چلاس کی گرمی اور سڑک کی دھول سے گزر کر دوپہر کے وقت رائے کوٹ برج پہنچے جہاں سے جیپ کے ذریعے تتّو گاؤں اور پھر تین گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد فیری میڈوز کا سبزہ زار سامنے آیا۔ نانگا پربت کا سایہ اور فیری میڈوز کا قاری 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کے سامنے رات کے اندھیرے میں فیری میڈوز کاجل جیسا سیاہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں فیری میڈوز کاٹیجز کے مالک قاری رحمت سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز بیان کیے۔ وہ ماضی میں ایک مدرسے میں 1,200 روپے ماہانہ پر پڑھاتے تھے، مگر مہمان نوازی کے اخراجات کی وجہ سے ان کے پاس کچھ نہ بچتا۔ نوکری چھوڑنے کے بعد ایک سال بے روزگار رہے، پھر 1992ء میں گلگت میں ایک شخص کے مشورے پر 800 روپے کی رقم کے ساتھ فیری میڈوز کی شاملاٹ زمین پر پتھر رکھ کر جگہ کی نشان دہی کی اور جنگل کی لکڑی سے ہوٹل بنایا۔ شروع کے پانچ سال تو کوئی مقامی سیاح نہ آیا لیکن آج ان کا ہوٹل ہر سیزن میں مکمل بک رہتا ہے۔ اسی دامن میں 1953ء میں آسٹریا کے کوہ پیما ہرمن بُہل نے پہلی بار نانگا پربت سر کیا تھا، جبکہ اس سے قبل یہ سرکش پہاڑ 31 کوہ پیماؤں کی جانیں لے چکا تھا۔ بُہل نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ آخری چڑھائی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ کوئی نادیدہ وجود ان کے پیچھے ہے اور رسی اپنے آپ ٹوٹ گئی تھی۔ اس پہاڑ نے جرمن کوہ پیما رائن ہولڈ میسنر کے بھائی سمیت کئی مہم جوؤں کو اپنے آغوش میں سلا رکھا ہے۔ مینیمرگ کے کھلتے پھول اور دیوسائی کی پراسرار خاموشی فیری میڈوز سے رخصت ہو کر شاہراہِ ریشم کے راستے استور کا سفر شروع ہوا۔ 120,000 کی آبادی پر مشتمل ضلع استور چشموں، ندی نالوں اور جھیلوں کی سرزمین ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ فارس سے آنے والے غازی مکپون نے سکردو کے شاہی خاندان میں شادی کی تھی اور ان کی اولاد نے سکردو، استور، روندو اور کھرمُنگ پر طویل عرصے حکومت کی، جس کے بعد یہ علاقہ ڈوگرا راج کے زیرِ نگیں چلا گیا۔ استور کے بازار سے جیپ تبدیل کر کے چلم چوکی میں اندراج کروایا اور مینیمرگ کی طرف بڑھے، جہاں لکڑی کے مکانات، جستی چھتیں اور رنگ برنگے جنگلی پھول سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔ یہاں سے ڈومیل کی رینبو لیک پہنچے تو مارموٹ (پہاڑی گلہری) کی سیٹیوں نے فضا میں موسیقی گھول دی۔ اس کے بعد سفر دیوسائی کے وسیع و عریض میدانوں اور شیوسر جھیل کی طرف مڑا۔ دیوسائی کا لفظ ’دیو‘ یعنی دیو قامت اور ’سائی‘ یعنی سائے کا مجموعہ ہے۔ شدید سردی اور منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے یہاں مستقل رہائش ناممکن ہے۔ یہ خاموش میدان بھورے ریچھ، سرخ لومڑی اور سنہری عقاب کا مسکن ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں سے آنے والے چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ انہی میدانوں سے گزر کر سکردو اور استور جاتے ہیں اور سفر کے دوران فوت ہو جانے والے چرواہوں کی قبریں انہی ویرانوں میں بکھری پڑی ہیں۔ کرن سیکٹر کی للکار اور رتی گلی کا نیلا پانی سلسلہِ ہمالیہ کا گلگت بلتستان کا حصہ ختم ہوا تو کشمیر کی سب سے بڑی جھیل 'رتی گلی' کا سفر شروع ہوا۔ مظفرآباد شہر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یومِ سیاہ کی وجہ سے مکمل بند اور ویران تھا۔ وادیِ نیلم کے کرن سیکٹر کی ملٹری چیک پوسٹ پر فوجی اہلکار نے دو دن قبل ہونے والی فائرنگ اور چار شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آگے جانے سے روکا، لیکن جنونِ سفر کے سامنے رکاوٹیں نہ ٹھہر سکیں۔ دوڑیاں سے سنگلاخ راستے پر ڈھائی گھنٹے جیپ کے سفر کے بعد رتی گلی کا بیس کیمپ آیا، جو خیموں کا ایک شہر بن چکا تھا۔ وہاں سے ڈھائی کلومیٹر کی عمودی اور کٹھن چڑھائی کے بعد جب رتی گلی جھیل کا گہرا نیلا پانی اور شام کی سنہری شعاعیں سامنے آئیں تو تمام تھکن کافور ہو گئی۔ اس نیلی جھیل کے کنارے سبز مخملی گھاس پر سجدہ ریز ہو کر خالقِ حقیقی کا شکر ادا کیا۔ لاہور واپسی پر جب کھڑکی کھولی تو آم کا درخت اداس تھا اور پرندوں کا جوڑا جا چکا تھا، مگر ایک سیاح کے لیے سفر کی یادیں اور نئے راستوں کی تلاش ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔

A wide frozen lake covered in ice and snow under a bright full moon, surrounded by snow-capped mountain peaks and lit wooden cabins in Kaghan Valley, Pakistan.برف میں ڈھکی جھیل سیف الملوک: ناران سے ملکہ پربت کے دامن تک ایک سیاح کا سحر انگیز سفر

وادیِ کاغان کا شمار پاکستان کے سب سے دلکش قدرتی خطوں میں ہوتا ہے، جہاں دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ پھیلی وادی، شوگران، ناران اور جھیل سیف الملوک سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہیں۔ موسمِ بہار اور سرما کے اختتام پر جب ناران سے جھیل سیف الملوک کا جیپ ٹریک شدید برف باری کے باعث بند ہوتا ہے، تو 4,173 میٹر تک بلند ان پہاڑی سلسلوں کا سفر کٹھن اور دشوار گزار ہو جاتا ہے۔ یہ تحریر پنجاب کے میدانی علاقوں اور ہزارہ ڈویژن سے ہوتے ہوئے ناران، للوسر، لولا زار اور برف سے ڈھکی سیف الملوک جھیل تک کے ایک منفرد سیاحتی سفر، مقامی ثقافت اور قدرتی تنوع کا احاطہ کرتی ہے۔

A dark gray Toyota Land Cruiser with tire chains driving on a narrow snow-covered cliffside track overlooking a deep blue mountain lake surrounded by snow-capped peaks in Gilgit-Baltistan, Pakistan.دیوسائی کی سحر انگیز وسعتیں: 'دیوؤں کی سرزمین' اور شیووسر جھیل کا جغرافیائی و انسانی منظرنامہ

سطحِ سمندر سے 4 ہزار میٹر سے زائد بلندی پر واقع دیوسائی کا قومی پارک ہندوکش اور ہمالیہ کے سنگم پر 3 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ایک منفرد خطہ ہے۔ 'دیو' اور 'سائی' یعنی دیوؤں کے سائے سے منسوب یہ سطحِ مرتفع سال کے 8 ماہ برف سے ڈھکی رہتی ہے اور یہاں کوئی درخت موجود نہیں ہے۔ یہ علاقہ ہمالین براؤن بیئر، سرخ لومڑیوں اور نایاب پرندوں کا قدرتی مسکن ہے۔ سکردو سے سدپارہ کے راستے شیووسر جھیل تک پھیلا یہ راستہ جہاں قاتل پہاڑ نانگا پربت کے نظارے پیش کرتا ہے، وہیں چلم اور استور کے راستے میں پہاڑی باشندوں کی زندگی کے تلخ حقائق سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔

A paved two-lane highway with an N-10 road marker winding between golden desert rock cliffs and the turquoise ocean waves of the Arabian Sea in Balochistan, Pakistan.کراچی سے گوادر: مکران کوسٹل ہائی وے اور بلوچستان کی سحر انگیز ساحلی پٹی کا سفر

پاکستان کی جنوبی ساحلی پٹی قدرتی مناظر، نایاب جغرافیائی تنوع اور معاشی امکانات کا ایک انوکھا مرکب ہے۔ کراچی کے تاریخی ساحلوں سے شروع ہو کر بلوچستان کے شہر گوادر تک پھیلا یہ ساحلی راستہ مکران کوسٹل ہائی وے (این-10) کے ذریعے مختلف جغرافیائی شاہکاروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ گدانی میں ناکارہ بحری جہازوں کے قبرستان سے لے کر 300 فٹ بلند چندر گپ کے مٹی کے آتش فشاں، 1,650 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہنگول نیشنل پارک، اور سُپٹ بندر کا نایاب ساحل جہاں رات کو نیلی روشنائیاں (بائیو لیومینسینس) چمکتی ہیں، اس سفر کا اہم حصہ ہیں۔ یہ تحریر پاکستان کے اس حسین مگر کم معروف ساحلی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے۔

Yellow and purple alpine wildflowers blooming on the rocky shoreline of Karomber Lake with snow-capped Hindukush mountain peaks reflecting in pristine blue water.وادیِ بروغل کی کرومبر جھیل: ہندوکش کے آغوش میں واقع پاکستان کا نایاب قدرتی شاہکار

پاکستان کے دور افتادہ شمالی علاقے چترال کی وادیِ بروغل میں واقع کرومبر جھیل سطحِ سمندر سے 4,300 میٹر کی بلندی پر موجود قدرتی خوبصورتی کا ایک شاہکار ہے۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی سرحد پر واقع یہ جھیل دنیا کی بلند ترین متحرک جھیلوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن یہاں تک پہنچنے کا راستہ لواری ٹنل، ماستوج، اور وادیِ یارخون سے ہوتے ہوئے دشوار گزار پتھریلی سڑکوں اور کلومیٹر طویل پیدل ٹریکنگ پر مشتمل ہے۔ وادیِ بروغل کی مقامی واخی برادری کی ثقافت، یاک کی پرورش اور شدید سردیوں سے قبل کی نقل مکانی اس خطے کو جغرافیائی کے ساتھ ساتھ معاشی اور ثقافتی لحاظ سے بھی منفرد بناتی ہے۔

A local Pakistani merchant wearing a traditional Pakol hat sitting behind baskets of wild herbs, dried chestnuts, and persimmons in a Swat Valley market with snow-capped mountains in the background.بریانی اور نہاری سے آگے: وادیِ سوات میں گندھارا تہذیب اور قدیم ذائقوں کی تلاش

پاکستان کا غذائی منظرنامہ اکثر بریانی، کڑاہی اور نہاری جیسے چند معروف پکوانوں تک محدود دکھائی دیتا ہے، لیکن ملک کے مختلف خطوں کی مقامی خوراک کے پیچھے تاریخ، زراعت اور ثقافت کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ حال ہی میں شیف اسد مونگا، اینتھروپولوجسٹ ایمان حبیب، آرٹسٹ اریشہ خواجہ اور فوٹوگرافر نور العین علی نے وادیِ سوات کا دورہ کر کے 'وائلڈ گرینز اینڈ سیکرڈ ہرڈز' نامی جریدہ تیار کیا ہے۔ اس تحقیقی سفر کے دوران گندھارا تہذیب کے بدھ راہبوں کے ذریعے تبت سے آنے والے 'دمبرا' مصالحے سے لے کر انگوروں کی کاشت اور پختونوں کی روایتی مہمان نوازی 'میلمستیا' کے ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ سوات کا ثقافتی ورثہ صرف آثارِ قدیمہ میں نہیں بلکہ وہاں کے کچن اور فصلوں میں بھی سانس لے رہا ہے۔

A local Sindhi cook frying marinated Palla fish on a large flat skillet by the banks of the Indus River in Sukkur during sunset.تقسیم کے باوجود زندہ سندھی ذائقے: پلا مچھی، سائی بھاجی اور نایاب پکوانوں کی کہانی

سندھی پکوان اپنی منفرد لذت، مقامی سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کے استعمال کے باعث ایک خاص ثقافتی پہچان رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان اور بھارت کے مین اسٹریم فوڈ کلچر میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جو دیگر علاقائی کھانوں کو ملا۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان، بھارت اور دیارِ غیر میں مقیم سندھی برادری نے اپنے گھریلو کچن کے ذریعے ان روایتی ذائقوں کو زندہ رکھا ہے۔ سائی بھاجی اور دال پکوان سے لے کر سکھر کے زندہ پیر سے منسوب 'پلا مچھی' تک، سندھی کھانا اپنے اندر ہجرت، تاریخ اور روحانی روایات کا ایک منفرد باب سمیٹے ہوئے ہے۔

A large platter of Kabli Pulao garnished with tender beef, bone marrow, caramelized carrots, and raisins, served with yogurt and green tea on a wooden table.شاہی مطبخ سے پشاور کی گلیوں تک: اصلی کابلی پلاؤ کا تاریخی سفر اور 12 مصالحوں سے جڑا ذائقہ

خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور اپنی مخصوص ثقافت اور کھانوں کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے، جہاں کارخانو مارکیٹ میں الیکٹرانکس اور برتنوں کے ساتھ ساتھ کابلی پلاؤ کی طعام گاہیں بھی مرکزِ نگاہ ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے بعد اگرچہ پشاور میں 'اصلی بابا ولی کابلی پلاؤ' کے نام سے کئی ریستوران قائم ہو چکے ہیں، لیکن اصل اور روایتی ذائقہ چند ہی جگہوں پر میسر ہے۔ ایرانی شاہی باورچی خانوں سے کابل اور پھر مغل دور میں برصغیر پہنچنے والے اس پلاؤ کی تیاری میں رات دو بجے سے شروع ہونے والی چھ گھنٹے کی ہلکی آنچ، ہشت نگری کے بچھڑے کا گوشت، اور افغانستان سے منگوایا گیا 12 قدرتی اجزا پر مشتمل مخصوص مصالحہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔