پاکستان
this is test category for pakistan
مزید خبریں

باری اسٹوڈیوز: لاہور کے فلمی عروج کی ایک بکھرتی ہوئی یاد
باری اسٹوڈیوز کبھی لاہور کی فلمی صنعت کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں فلمیں بنتی تھیں اور پردے کے پیچھے کام کرنے والے سیکڑوں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔ آج اس کی خستہ حال عمارتیں اور وہاں موجود چند پرانے کارکن پاکستانی سنیما کے عروج، زوال اور اس صنعت سے جڑے بھلا دیے گئے کرداروں کی کہانیاں سناتے ہیں۔

عالمی درجوں میں 35 پاکستانی جامعات: موضوعاتی سطح پر بہتری، مگر سرفہرست اداروں میں جگہ بنانا اب بھی بڑا چیلنج
کیو ایس (QS) ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ باائے سبجیکٹ 2026 میں پاکستان کی 35 جامعات شامل ہوئی ہیں، جن میں 31 سرکاری اور چار نجی ادارے شامل ہیں۔ زرعی تعلیم میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد ٹاپ 200 اور بزنس کے شعبے میں لمیز (LUMS) 101 سے 150 کے بینڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی، جبکہ نسٹ، قائد اعظم یونیورسٹی اور کامسیٹس نے تکنیکی و قدرتی علوم میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ مجموعی طور پر پاکستانی اداروں کے 180 مضامین اس درجہ بندی کا حصہ بنے۔ تاہم زیادہ تر جامعات کی پوزیشن 201 سے 400 کے بینڈ میں رہنے سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق، تجارتی روابط اور معیاری تدریس کو وسعت دینے کے لیے ابھی مزید اقدامات درکار ہیں۔

جامعات کی تعداد اور گریجویٹس کی فوج: پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا حقیقی بحران کیا ہے؟
سال 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے قیام کے بعد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں غیر معمولی توسیع دیکھی گئی، جہاں جامعات کی تعداد 60 سے بڑھ کر 250 سے تجاوز کر گئی اور طلبہ کا اندراج 25 لاکھ تک پہنچ گیا۔ تاہم اس عددی ترقی کے باوجود تعلیم کا معیار، تحقیق کی عملی افادیت اور مارکیٹ کی ضرورت سے مطابقت کے سنگین مسائل برقرار ہیں۔ ملک میں ہر سال ساڑھے چار لاکھ گریجویٹس تیار ہونے کے باوجود تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا تناسب 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی وسائل کی قلت، گورننس کی پیچیدگیاں اور انڈسٹری سے کمزور ربط تعلیمی نظام کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

پابندیاں یا طریقہ تدریس میں تبدیلی؟ پاکستانی جامعات میں مصنوعی ذہانت کا چیلنج اور آئندہ کا راستہ
مصنوعی ذہانت کی آمد نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے روایتی ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسائنمنٹس اور تحریری کام میں اے آئی کے بڑھتے استعمال کے بعد جامعات صرف پالیسیوں اور پابندیوں کے ذریعے نقل روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ اصل ضرورت طریقہ تدریس اور امتحانی نظام کو بدلنے کی ہے۔ محض تحریری مواد جمع کرانے کی بنیاد پر طلبہ کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانا اب ممکن نہیں رہا۔ جامعات کو چاہیے کہ وہ جوابات تیار کرنے کے بجائے تنقیدی سوچ، زبانی امتحانات اور بنیادی صلاحیتوں کو ترجیح دیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیمی ڈگری کی معتبری کو برقرار رکھا جا سکے۔

اسلام آباد میں مصنوعی ذہانت پر بین الاقوامی کانفرنس: تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے باہمی وژن پر زور
اسلام آباد میں کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس میں جدید پیش رفت کے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس (CAIDS-2025) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ رِفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کی میزبانی اور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں، یونیورسٹی آف لکی مروت، گومل یونیورسٹی، کیوی بنوں اور ملائیشیا کی ملٹی میڈیا یونیورسٹی کے اشتراک سے ہونے والی اس کانفرنس میں اے آئی کے اخلاقی استعمال، ڈیٹا پرائیویسی اور سوشل میڈیا پر پھیلاؤ پانے والی کثیر لسانی غلط معلومات کے تدارک کے لیے جدید الگورتھمز کے استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

پاکستان کی قومی اے آئی پالیسی 2025: 35 لاکھ ملازمتوں کا وژن اور عمل درآمد کے چیلنجز
پاکستان کی 'قومی اے آئی پالیسی 2025' ملک میں تحقیق، ہنرمندی اور محفوظ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے قیام کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنانے کی ایک جامع کوشش ہے۔ نجی شعبے، جامعات، ٹیکنالوجی ماہرین اور سول سوسائٹی کے تعاون سے تیار کردہ اس پالیسی میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، کلاؤڈ سسٹمز اور مقامی اے آئی ماڈلز کی تعمیر شامل ہے۔ 2030 تک جی ڈی پی میں 12 فیصد اضافے اور 35 لاکھ نئے روزگار کے اہداف حاصل کرنے کے لیے بنیادی صلاحیتوں کے فروغ، بین الاقوامی شراکت داری اور خواتین و معذور افراد کی مساوی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔ پالیسی کی حتمی کامیابی کا انحصار بجٹ کی فراہمی اور اداروں کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
مزید تازہ خبریں
دہشت گردی سے خیابانی جرائم تک: پاکستان میں عام شہری کے تحفظ کا بحران اور نوآبادیاتی طرزِ پولیسنگپاکستان میں جرائم اور عسکریت پسندی کا ملاپ امن و امان کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا چکا ہے۔ جہاں بڑے شہروں میں خیابانی جرائم، منشیات اور آن لائن فراڈ کا راج ہے، وہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تاوان کے لیے اغوا جبکہ پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں منظم مجرمانہ گروہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ 2026 میں پنجاب میں عادی مجرموں کے خلاف پیش کیے جانے والے مجوزہ قانون نے سخت انتظامی اقدامات اور شہری آزادیوں کے توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق وقتی پولیس آپریشنز کے بجائے نوآبادیاتی طرزِ پولیسنگ کے خاتمے، سیاسی مداخلت کی روک تھام اور بااختیار عدالتی و انتظامی اصلاحات ہی سے عام شہری کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔
معاشی بحالی کا اصل امتحان: محض قرض اور بجٹ خسارہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور شفاف حکمرانی لازمیپاکستان کو درپیش معاشی بحران کی بنیادی وجہ صرف مالیاتی خسارہ یا عالمی معاشی حالات نہیں بلکہ ادارہ جاتی حکمرانی کی کمزوریاں ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ کے مطابق، سیاسی مداخلت، غیر شفاف ضوابط اور صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال سرمایہ کاری کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ اگرچہ ٹیکس نظام، سرکاری خریداری اور آڈٹ کے شعبوں میں اصلاحاتی تجاویز پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان پر مسلسل عمل درآمد کا فقدان سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ معاشی استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے قانون کی بالادستی، ڈیجیٹلائزیشن اور سول سوسائٹی کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔
بدعنوانی کا عمومی تاثر اور حقائق: کیا ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد بحال ہو سکتا ہے؟پاکستان میں بدعنوانی اور غیر شفافیت کے حوالے سے شہریوں کے تاثرات پر مبنی ایک اہم سروے سامنے آیا ہے جسے تحقیقی ادارے آئیپسوس اور ایف پی سی سی آئی نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے۔ اس انڈیکس (iTAP) کے مطابق 68 فیصد سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ انہیں براہِ راست رشوت کا تجربہ نہیں ہوا، مگر اس کے باوجود ایف بی آر، ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اداروں کے بارے میں منفی تاثر برقرار ہے۔ اس کے برعکس نادرا اور ای چالان کے حامل ٹریفک نظام کو ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی وجہ سے نسبتاً مثبت درجہ بندی ملی ہے۔ سروے اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ اداروں کی بحالی کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ عملی ڈیجیٹل اصلاحات اور شفافیت ضروری ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں ترقی اور سیکیورٹی کے دو رخ: نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل ہنر اور خواتین کے لیے روزگار کا نیا راستہقبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے جائیکا اور خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر نیا تکنیکی پروگرام فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو ای کامرس، فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار کی تربیت دے کر بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔ تربیت مکمل کرنے پر مردوں کو لیپ ٹاپس اور خواتین کو گھریلو صنعت قائم کرنے کے لیے سلائی مشینیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ باوقار روزگار حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب، خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بھی برقرار ہیں، جہاں پولیس اہلکار زاہد اللہ کی شہادت ظاہر کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن و امان کی صورتحال کا استحکام کتنا ضروری ہے۔
آزاد کشمیر میں 64 فیصد نوجوان آبادی کے لیے ہنر اور روزگار کا چیلنج: محض ڈگری یا عملی مہارت؟آزاد کشمیر میں انسانی وسائل کے موثر استعمال اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے مظفرآباد میں دو روزہ یوتھ لیڈرشپ ورکشاپ اور جاب فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی 64 فیصد نوجوان آبادی میں صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ درست رہنمائی اور جدید ہنر کی عدم دستیابی اصل رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر قائم کیے گئے جاب فیسٹیول میں مختلف سرکاری محکموں، مسلح افواج اور تعلیمی کنسلٹنٹس نے اسٹالز لگائے۔ حکومت نے آزاد کشمیر میں فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار کے لیے انٹرنیٹ سروسز کی بہتری کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
پشاور میں نوجوانوں کے لیے نئے آئی ٹی تربیتی مرکز کا افتتاح: 'بنو قابل' پروگرام کے تحت 10 ہزار سے زائد طلبہ پہلے ہی مستفیدخیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مرکز اسلامی سردار گڑھی کے مقام پر الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے تعاون سے 'بنو قابل' آئی ٹی ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر پروفیسر حافظ الرحمان اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسی نے کیا۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ الخدمت صوبے بھر میں 85 کیمپسز کے ذریعے اب تک 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مفت تربیت فراہم کر چکی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو خود انحصار بنانا اور ملکی معیشت میں ان کا حصہ بڑھانا ہے۔
اربوں کا تربیتی بجٹ اور سکڑتا ہوا روزگار: کیا یوتھ اسکلز پروگرام نوجوانوں کو معاشی تحفظ دے سکے گا؟پاکستان کی 67 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جسے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملکی معیشت کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 'وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام' کے تحت 5,290.49 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں کی تربیت فراہم کی جا سکے۔ تاہم، معاشی سست روی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کے باعث روزگار پیدا کرنے کے مربوط پروگرام کی عدم موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر تربیتی یافتہ نوجوانوں کو مقامی اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے نہ جوڑا گیا تو یہ سرمایہ کاری معاشی بہتری میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔
10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر: کیا فری لانسنگ پاکستانی معیشت کی نئی شاہراہ بن رہی ہے؟اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ میں ملکی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 950 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ ملک میں تقریباً 30 لاکھ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں جو Upwork اور Fiverr جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمران بتادہ کے مطابق آگاہی میں اضافے کے باوجود بینکاری سہولیات، پے منٹ گیٹ ویز اور اے آئی (AI) مہارتوں کی کمی بڑے چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فری لانسرز کو تربیت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔
5,260 سے 1,000 مکعب میٹر کا زوال: کیا پاکستان کا زرعی بحران صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے؟پاکستان کو دنیا میں شدید آبی قلت کے شکار ممالک میں 14 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 1951ء کے مقابلے میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر سے گر کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قومی معیشت میں 24 فیصد حصہ ڈالنے والے زرعی شعبے کو صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مؤثر آبپاشی، کیمیائی کھادوں کا بے تحاشا استعمال اور مسلسل ایک ہی فصل اگانے کا رجحان تباہ کر رہا ہے۔ ملک کی 37 فیصد سے زائد افرادی قوت اسی شعبے سے منسلک ہے، مگر قومی کلائمیٹ چینج اور فوڈ سیکیورٹی جیسی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے زرعی مستقبل غیر یقینی بن چکا ہے۔

