[DEV-FRONTEND-DATASET] Temporary category for local frontend design testing.
Sep 11, 2026گیارہ ستمبر کے 25 سال: انٹیلی جنس ناکامیاں، عراق جنگ کے اسباق اور روس و چین کا نیا چیلنج

پاکستان میں انتظامی اصلاحات اور بیوروکریسی کی بہتری کے لیے دہائیوں سے مسلسل دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بحران جوں کا توں ہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ طاقت اور اختیارات کا مرکز میں جمع رہنا ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ، مالیاتی خودمختاری اور انتظامی اختیارات فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک سول سروس میں کسی بھی نوعیت کی اصلاحات نچلی سطح پر مثبت تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ ایوب خان اور پرویز مشرف کے ادوار کی مقامی حکومتوں کی مثالوں سے لے کر بھارت، برازیل اور جرمنی کے عالمی ماڈلز تک، تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پائیدار حکمرانی کا راستہ صرف بلدیاتی اداروں کی بحالی اور مظبوطی سے ہو کر گزرتا ہے۔

موسیٰ خیل میں شہریوں کے المناک قتل عام کے بعد بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی بحران پر ایک بار پھر بحث چھڑ چکی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے جاری اس شورش کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں فوجی طاقت کے استعمال سے ہوا تھا، جس کے اثرات آج بھی پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ پختون، ہزارہ، پنجابی اور سرائیکی بھی آباد ہیں، جبکہ خود بلوچ معاشرہ مکران سے لے کر بگٹی اور مری علاقوں تک متنوع سیاسی و سماجی شناخت رکھتا ہے۔ گوادر میں ماہی گیروں کی معاشی بے دخلی، سی پیک پر تحفظات، لاپتا افراد اور پرامن بلوچ نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے اقدامات نے اس قضیے کو مزید الجھا دیا ہے۔

پاکستان میں وفاق اور پسماندہ اضلاع یا دور افتادہ خطوں کے درمیان قائم خلیج ملک کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے। بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ابلتا ہوا بے چینی کا جذبہ محض بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس استعماری طرزِ حکمرانی کی دین ہے جہاں عوام کو بااختیار شہری کے بجائے رعایا سمجھا جاتا ہے। سوئی کے قدرتی گیس کے ذخائر سے لے کر دیگر معدنی اور آبی وسائل تک، استحصال کا یہ سلسلہ مقامی آبادیوں کو محروم رکھ کر چلایا جا رہا ہے। اس تفصیلی تجزیے میں مرکز اور حاشیے کے ناہموار تعلقات، معاشی ناہمواری اور ان کے حل کا احاطہ کیا گیا ہے।

باری اسٹوڈیوز کبھی لاہور کی فلمی صنعت کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں فلمیں بنتی تھیں اور پردے کے پیچھے کام کرنے والے سیکڑوں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔ آج اس کی خستہ حال عمارتیں اور وہاں موجود چند پرانے کارکن پاکستانی سنیما کے عروج، زوال اور اس صنعت سے جڑے بھلا دیے گئے کرداروں کی کہانیاں سناتے ہیں۔

